اسلام آباد ؛ سپریم کورٹ سے 17 برس قید کی سزا کی معطلی اور ضمانت پر اڈیالہ جیل رہا ہونے والے وکیلوں ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو پولیس نے ایک اور مقدمے میں گرفتار کر لیا ہے۔
بی بی سی اردو کو پولیس حکام اور ایمان مزاری کی ایک ساتھی نے دونوں وکیلوں کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔
اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد ایک اور مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
تاہم پولیس اہلکار نے اس مقدمے کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
سپریم کورٹ نے جمعرات کو ہی ’ریاست مخالف ٹویٹس‘ کے مقدمے میں ان دونوں کو دی جانے والی سزاؤں کو معطل کر کے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
دوسری جانب ایمان مزاری کے چیمبر میں کام کرنے والے وکیل ایمل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعداسلام آباد پولیس ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دوبارہ گرفتار کر کے لے گئی تھی، جس کے بعد انھیں اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
ان کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر دوبارہ اڈیالہ جیل بھیج دیا ہے۔
ایمل خان کے مطابق پولیس نے دونوں وکیلوں کی گرفتاری گذشتہ برس اسلام آباد کی حدود میں واقع تھانہ کوہسار میں درج ہونے والے ایک مقدمے میں ظاہر کی ہے۔
وکیل کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر کا نمبر 276 بتایا گیا ہے، تاہم ابھی تک انھیں ایف آئی آر کی کاپی نہیں دی گئی ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج سے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ نہیں مانگا بلکہ ان ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کی جو منظور کر لی گئی۔
سپریم کورٹ سے رہائی کا حکم
جمعرات کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے جبری گمشدگیوں کے مقدمات کی پیروی کرنے والی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ کو مبینہ ’ریاست مخالف ٹویٹ‘ پر دی جانے والی 17 برس قید کی سزا معطل کرتے ہوئے ان کی ضمانت کی درخواستیں منظور کر لی تھیں۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے ایمان اور ہادی کے وکیل کو دو، دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کی اپیلوں کے فیصلے تک دی ہیں جو کہ مقامی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھیں۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے جنوری 2026 میں سوشل میڈیا پر ’ریاست مخالف ٹویٹ‘ پر ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس کے علاوہ انھیں تین کروڑ ساٹھ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔
انھوں نے مقامی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم فروری 2026 میں ہائیکورٹ نے ان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کافی عرصے تک سماعت کے لیے مقرر نہ ہوئی جس کے بعد ہادی اور ایمان کے وکیل نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور عدالتِ عظمیٰ نے اب اسلام آباد ہائی کورٹ کو فیصلے کے خلاف درخواستوں کی جلد سماعت کرنے کا حکم دیا ہے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف درخواستوں کی سماعت اگلے ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوگی۔
( بی بی سی )
جمعہ, ستمبر 18, 2026
تازہ خبریں:
- ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ رہائی کے بعد دوسرے مقدمے میں گرفتار
- ماہرہ خان اور قوم کو مبارک ہو : یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
- 30 روپے کے شاپنگ بیگ پر کھاڈی کو جرمانہ : پشاور کی کنزیومر کورٹ کا فیصلہ
- پیٹرول ، ڈیزل کی قیمتوں میں ستمبر کے دوران ساتویں بار اضافہ : عوام پر 41.55 روپے کا بوجھ ڈالا گیا
- حرف حق دل میں کھٹکتا ہے : وجاہت مسعود کا کالم
- آئین کے شیش محل میں پڑتی دراڑیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- اجتماعی سلامتی: تصور سے عملی حکمتِ عملی تک! امریکہ، ایران جنگ کے تناظر میں ۔۔ ڈاکٹر سید علمدار حسین بخاری کا تجزیہ (2)
- پیٹرول کی قیمت میں مزید پونے پانچ روپے کا اضافہ : ڈیزل بھی 6 روپے لیٹر مہنگا
- عوام سے لیڈروں کی دور ی کسی طوفان کا پیش خیمہ بنے گی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- موٹر سائیکل ، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف

