پشاور : پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی ایک عدالت نے صارفین سے شاپنگ بیگ پر 30 روپے وصول کر کے اپنی تشہیر کرنے پر معروف برانڈ کھاڈی کو 25 ہزار روپے ہرجانہ اور 25 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
پشاور کی کنزیومر پروٹیکشن کورٹ نے کھاڈی کو یہ حکم بھی دیا کہ شاپنگ بیگ کے لیے وصول کیے گئے 30 روپے شکایت کنندہ کو واپس کیے جائیں۔
بدھ کو پشاور کی کنزیومر کورٹ کا فیصلہ اس شکایت پر سنایا گیا جو برانڈ کے لوگو والے کیئرنگ بیگ کی اضافی رقم وصول کرنے کے خلاف گذشتہ سال دسمبر میں دائر کی گئی تھی۔
درخواست گزار کا موقف تھا کہ صارف سے اضافی رقم وصول کرنے کے ساتھ اسی صارف کے خرچ پر کمپنی کے برانڈ کی تشہیر کرنا غیر منصفانہ تجارتی عمل کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت نے اس سے اتفاق کیا ہے۔
بی بی سی اُردو کی جانب سے رابطہ کرنے پر کھاڈی کی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ اس فیصلے کو اعلی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا کیونکہ پلاسٹک کے استعمال سے بچنے کے لیے شاپنگ بیگز کو ماحول دوست بنایا گیا تھا۔
پشاور کی کنزیومر پروٹیکشن کورٹ نے صارفین سے برانڈ لوگو والے شاپنگ بیگ کے 30 روپے اضافی چارج کرنے کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
کنزیومر کورٹ کے جج نصر اللہ خان گنڈاپور نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کھاڈی درخواست گزار کو 30 روپے واپس کرے، انھیں 25 ہزار روپے ہرجانہ ادا کرے اور اس کے علاوہ 25 ہزار روپے کا جرمانہ سرکاری خزانے میں بھی جمع کرائے۔
یہ مقدمہ شفق عامر ایڈووکیٹ نے خیبر پختونخوا کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ 1997 کے تحت کھاڈی پاکستان لمیٹڈ کے خلاف دائر کیا تھا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے 20 دسمبر 2025 کو کھاڈی کے یونیورسٹی روڈ پشاور آؤٹ لیٹ سے سات ہزار روپے کے کپڑے خریدے تھے اور اس سے شاپنگ یا سامان لے جانے والے بیگ کے لیے اضافی 30 روپے وصول کیے گئے تھے۔
درخواست گزار کے مطابق اس بیگ پر کھاڈی کا تشہیری لوگو بھی چھپا ہوا تھا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق کھاڈی نے صارف سے 30 روپے وصول کرنے کے الزام کی تردید نہیں کی، تاہم کمپنی کا موقف تھا کہ وہ صارفین کو مفت شاپنگ بیگ فراہم کرنے کی پابند نہیں اور صارف کی درخواست پر بیگ اضافی رقم کے عوض فراہم کیا جاتا ہے۔
تاہم عدالت کے مطابق یہ بیگ محض سامان لے جانے کے لیے نہیں بلکہ کمپنی کی تشہیر کے لیے بھی استعمال ہو رہا تھا اور اس تشہیر کی لاگت بھی صارف سے وصول کی جا رہی تھی۔
عدالت نے قرار دیا کہ کمپنی کو اس صورت حال میں صارف کو ایک عام بیگ فراہم کرنا چاہیے تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ صارف سے اضافی رقم وصول کرنے کے ساتھ اسی صارف کے خرچ پر کمپنی کے برانڈ کی تشہیر کرنا غیر منصفانہ تجارتی عمل کے زمرے میں آتا ہے اور یہ خیبر پختونخوا کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ کی متعلقہ شقوں کے خلاف ہے۔
کھاڈی کا موقف
بی بی سی اُردو کے رابطہ کرنے پر کھاڈی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے پشاور کنزیومر کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ انصاف کے تقاضوں پر پورا نہیں اُترتا، اس لیے اسے اعلی عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف کھاڈی تک محدود نہیں بلکہ پوری ریٹیل انڈسٹری کا ہے اور ریٹیل ایسوسی ایشن اس معاملے پر کھاڈی کے مؤقف سے متفق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھاڈی کے آؤٹ لیٹس پر جو بیگز دیے جاتے ہیں وہ ماحولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیے گئے ہیں تاکہ پلاسٹک کے استعمال سے بچا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ انٹرنیشنل برانڈز بھی اسی پریکٹس پر عمل کرتی ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی )
30 روپے کے شاپنگ بیگ پر کھاڈی کو جرمانہ : پشاور کی کنزیومر کورٹ کا فیصلہ
ایڈیٹر4 Views

