رانچی : جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی قومی صدر نیہا بورا پر ایک شخص نے سیاہی پھینک دی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ جھارکھنڈ اسمبلی کی جانب نکالے گئے احتجاجی مارچ میں شریک تھیں، جہاں طلبہ JPSC اور JSSC کے بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے سیاہی پھینکنے کے الزام میں ایک شخص کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے نیہا بورا کو "قوم مخالف” قرار دیا، تاہم اس معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
نیہا بورا نے الزام لگایا کہ انہیں ڈرانے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن وہ اس سے خوفزدہ نہیں ہوں گی اور طلبہ کی تحریک جاری رہے گی۔ دوسری جانب AISA اور سی پی آئی (ایم ایل) لبریشن نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ واقعہ سیاسی مخالفت کا نتیجہ ہے، جبکہ اس الزام کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
ہفتہ, نومبر 7, 2026
تازہ خبریں:
- 23 بین الاقوامی تنظیموں کا ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ
- زبان خلق : ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ اللسان العربی
- یہ قتلِ عام کون روکے گا ؟ ۔۔ حامد میر کا کالم
- شاعر نما اور ادبی ری سائیکلنگ کا قصہ : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- ٹرمپ کی صدارت، کانگریس کی مزاحمت اور عالمی سیاست کے نئے سوالات : شہزاد عمران خان کا تجزیہ
- الگورتھم کے قیدی ، بے چہرہ ہجوم اور چیئرمین ماؤ : وجاہت مسعود کا کالم
- وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی
- امریکی الیکشن نتائج نے ٹرمپ کو ’ لنگڑی بطخ ‘ بنا دیا : نصرت جاوید کا کالم
- امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کو تاریخی شکست ، ڈیموکریٹس کا کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول
- سہیل آفریدی پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے الزامات۔۔ پورا سچ سامنے لایا جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ

