تہران : ایران میں کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی تو لوگ سڑکوں پر آ گئے۔ اب تہران میں صورتحال یہ ہے کہ اگر آپ ایک لاکھ 44 ہزار تومان دیں گے تو پھر ایک ڈالر کے حقدار ہوں گے۔
تہران کے مختلف علاقوں میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جن میں پولیس کو مظاہرین پر آنسو گیس فائر کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
پل حافظ کے علاوہ باغ سپہ سالار کے اطراف میں بھی پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔ مظاہرین اس دوران نعرے لگا رہے تھے۔
ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ علاقے کی سڑک بند ہے اور کچرے کے ڈبے آگ لگنے کے باعث جل رہے ہیں۔
اس مقام پر پولیس کی انسدادِ شورش فورسز کی موجودگی نمایاں ہے۔ باغ سپہ سالار، شارعِ جمہوری اسلامی میں واقع ہے جو میدان بہارستان اور چہارراہ ظہیرالاسلام کے درمیان ہے۔
تہران میں غیر ملکی کرنسی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور بازار کی بے ثباتی کے خلاف مظاہروں کے دوسرے روز احتجاجی اجتماعات کی تعداد اور پھیلاؤ پہلے دن کے مقابلے میں زیادہ نظر آ رہا ہے۔
گذشتہ روز کئی دکاندار اور تاجروں نے کرنسی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا اور بعض نے اپنی دکانیں بند کر دیں۔
آج جاری مظاہروں کی ویڈیوز میں مختلف نعرے بھی سننے کو ملے، جن میں ایران کے سابق حکمران رضا شاہ کے حق میں بھی نعرے لگائے گئے اور یہ نعرہ بھی لگا کہ ’یہ آخری جنگ ہے، پہلوی واپس آئے گا‘۔
ایران کے نائب وزیر داخلہ برائے سکیورٹی، علی اکبر پور جمشیدیان نے خبردار کیا ہے کہ زرِ مبادلہ کی منڈی میں حالیہ مسائل اور اتار چڑھاؤ بڑی حد تک ’نفسیاتی فضا‘ سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دشمن اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’عوام کو چاہیے کہ اس معاملے میں محتاط رہیں اور دشمن کے پروپیگنڈے سے متاثر نہ ہوں۔‘ ان کے مطابق ’مارکیٹ کو سکون کے ساتھ اپنا کام جاری رکھنا چاہیے اور عوام کو بھی پریشان نہیں ہونا چاہیے۔‘
علی اکبر پور جمشیدیان نے مزید کہا کہ حکومت مسائل کے حل کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
زرِ مبادلہ کی شرح میں اضافے پر بڑھتے احتجاج کے بعد حکومت کی اقتصادی ٹیم نے ان معاشی پالیسیوں پر غور کے لیے اجلاس منعقد کیا ہے۔
تہران کے کئی اہم مراکز، بشمول گرینڈ بازار، میں کاروباری حضرات اور دکانداروں نے غیر ملکی کرنسی کے نرخوں میں اچانک اضافے کے خلاف اتوار کے روز احتجاج کیا تھا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تاجروں نے شکایت کی ہے کہ حالیہ دنوں میں ’شدید زرِ مبادلہ کے اُتار چڑھاؤ اور قیمتوں میں عدم استحکام‘ نے کاروبار کو مشکل بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بار بار بڑھتے ہوئے ریٹ کے باعث اشیا کی قیمتوں کا تعین یا لین دین کی تکمیل ممکن نہیں رہی، جس سے خریدار اور فروخت کنندگان کے درمیان اعتماد متاثر ہوا ہے۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا جب صدر مسعود پزشکیان نے پارلیمان میں آئندہ مالی سال، مارچ 2026 سے شروع ہونے والے بجٹ کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کا مقصد اخراجات کم کرنا اور عوامی فلاح کو بہتر بنانا ہے۔
سرکاری نشریاتی اداروں نے آج صبح کابینہ اجلاس میں صدر کے بیان کو نمایاں طور پر شائع کیا، جس میں انھوں نے کہا کہ ملک کے زرِ مبادلہ کی آمدنی سب سے پہلے عوام کی زندگی اور روزگار بہتر بنانے پر خرچ ہونی چاہیے، اس کے بعد کسی اور شعبے کو دی جا سکتی ہے۔
ایرانی اخبارات نے کرنسی بحران کو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سوال اٹھایا کہ ’ڈالر کہاں جا کر رکے گا؟‘
تہران سٹاک مارکیٹ میں 37 ہزار پوائنٹس کی کمی
تہران سٹاک ایکسچینج کا مجموعی انڈیکس پیر (29 دسمبر) کو 37 ہزار پوائنٹس گر گیا اور چار ملین 123 ہزار پر بند ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق آج حقیقی سرمایہ کاروں کی جانب سے 887.7 ارب تومان مارکیٹ سے نکالے گئے۔
سب سے زیادہ سرمایہ بینکوں سے نکالا گیا، جس کی مالیت 259.3 ارب تومان رہی۔ گاڑیوں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے بھی ان نمونوں میں شامل تھے جن سے حقیقی سرمایہ کاروں نے سرمایہ نکالا۔
ایران کی معیشت کے منفی امکانات اور حالیہ ہفتوں میں ڈالر کی بے مثال قیمت میں اضافے کے باعث بہت سے سرمایہ کاروں نے اپنی رقوم سونے اور زرِ مبادلہ جیسے متوازی بازاروں میں منتقل کر دی ہیں۔
بشکریہ : بی بی سی ۔۔ اردو
بدھ, ستمبر 30, 2026
تازہ خبریں:
- مشہد احتجاج کیس: ایران میں دو افراد کو پھانسی دے دی گئی
- صومالیہ میں بحری قزاقوں نے 3 پاکستانیوں سمیت پانچ افراد قتل کر دیئے
- لاہور میں آذر بائیجان کی سیاح کے ساتھ گینگ ریپ : میڈیکل رپورٹ میں تصدیق
- ایرانی گلوکارہ پرستو احمدی کو 74 کوڑوں کی سزا برقرار : بغیر آستینوں والا لباس پہننے کا الزام
- ایمرجنسی کے نفاذ کی تیاریاں؟ حکومتی بیانات اور تجزیہ نگاروں نے نئی بحث چھیڑ دی
- ٹانک میں ٹریفک پولیس کی گاڑی پر فائرنگ، 3 اہلکار شہید
- حکومت کا ممکنہ اگلا فیصلہ کن قدم، "آرٹیکل 232” : نصرت جاوید کا کالم
- ایران امریکہ تنازعہ: نئی جنگ خطرناک اور مہلک ہوگی : سیدمجاہد علی کا تجزیہ
- خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا وزیراعلیٰ کی تبدیلی پر غور
- وقت کی کسوٹی : مولوی تمیز اُلدین خان کی داستانِ حیات : محمد اسلام تبسم کا کتاب کالم ( 2)

