اسلام آ باد: وفاقی حکومت کی رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور ان کے محکموں میں گریڈ ایک سے 22 تک کی 4816 پوسٹوں کو ختم ( Abolished) اور 1954پوسٹوں کو متروک ( dying) قرار دیدیا گیا، مجموعی طور پر 6770پوسٹیں ختم کی گئی ہیں۔
کفایت شعاری کا یہ اقدام وفاقی کابینہ کے 27اگست2024 کے فیصلہ پر عملدرآ مد کرتے ہوئے کیا گیا جس کا مقصد وفاق کے انتظامی ڈھانچہ کو کم کرنا اور انتظامی اخراجات کو کم کرنا ہے۔
سرکاری دستاویز کے مطابق جو پوسٹیں ختم (abolish) کی گئی ہیں ان میں گریڈ 22کی دو گریڈ 20 کی 22، گریڈ 19کی 69، گریڈ 18 کی 93، گریڈ 17 کی 270،گریڈ 16 کی 325، گریڈ 15کی 122،گریڈ 14 کی 382، گریڈ 13 کی 155، گریڈ 12 کی 26، گریڈ 11 کی 254، گریڈ 10 کی 29، گریڈ 9 کی 862، گریڈ 8 کی 28، گریڈ 7 کی360، گریڈ 6 کی 14، گریڈ 5 کی 86، گریڈ 4 کی 261، گریڈ 3 کی 80، گریڈ 2 کی 419 اور گریڈ ایک کی 957 پوسٹیں شامل ہیں۔
ان میں نا ن گزیٹڈ کی تعداد 4360 بنتی ہے جبکہ گزیٹڈ پوسٹوں کی تعداد 456ہے جو پوسٹیں متروک ( dying) قرار دی گئی ہیں، ان میں گریڈ 18 کی 10، گریڈ 17 کی 12 پوسٹیں شامل ہیں جبکہ گریڈ 16 کی 147، گریڈ 15 کی 199، گریڈ 14 کی 92، گریڈ 13 کی 7، گریڈ 12 کی 6، گریڈ 11کی 194، گریڈ 10 کی 5، گریڈ 9 کی 215، گریڈ 8 کی 5، گریڈ 7 کی 95، گریڈ 6 کی 7، گریڈ 5 کی 71، گریڈ 4 کی235، گریڈ 3 کی 13، گریڈ دو کی 63 اور گریڈ ایک کی 578 پوسٹیں شامل ہیں۔
وزارتوں اور ڈویژنوں نے کابینہ کے فیصلہ پر عمل درآ مد سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو آ گاہ کردیا گیا ہے۔
(بشکریہ:جیونیوز)
منگل, ستمبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم

