سابق صدر اورپاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا دورہ ملتان ناکام ہوگیا۔ سابق صدر جمعرات کے روز تین روزہ دورے پر ملتان پہنچے تھے اوران کی آمد سے پہلے پاکستان پیپلزپارٹی کے عہدیداروں اورکارکنوں کی جانب سے دعوی کیاجارہاتھا کہ اس دورے کے نتیجے میں جنوبی پنجاب کی اہم شخصیات پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیارکریںگی۔ سابق صدر کے اس دورے سے بہت سی توقعات وابستہ کی گئی تھیں اوراس حوالے سے کئی روز سے مشاورت کاسلسلہ جاری تھا۔
مصدقہ ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران کوئی قابل ذکر سیاسی رہنماءپیپلزپارٹی میں شامل نہیں ہوا۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے یہ دعوی بھی کیاجارہاتھا کہ سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام اور ان کی اہلیہ سابق وزیر خارجہ عابدہ حسین پیپلزپارٹی میں شامل ہوجائیں گی۔ اس کے علاوہ سابق وفاقی وزیرسکندر حیات بوسن کی شمولیت کا دعوی بھی کیا جارہاتھا۔تاہم اس دورے کے دوران ان میں سے کوئی بھی پیپلزپارٹی میںشامل نہ ہوا البتہ مقامی قیادت کچھ سابق اراکین صوبائی اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو پیپلزپارٹی میںشامل کرانے میںکامیاب ہوگئے۔شمولیت اختیار کرنے والوں میں مظفرگڑھ سے سابق ایم پی اے خان محمد جمالی ،مسلم لیگ(ن) پی پی 275کے ٹکٹ ہولڈر سردارعبداللہ بدانی ،تحریک لبیک پی پی 246 کے ٹکٹ ہولڈر میاں یوسف عباسی اور مسلم لیگ(ن)ملتان کی رہنماءروبینہ شاہین شامل ہیں۔
سابق صدر آصف زرداری نے مختلف اجلاسوں کی صدارت کی جن میں سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی ا ورپیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد محمودسمیت پارٹی رہنماﺅں کی بڑی تعداد موجودتھی۔اس موقع پر آئندہ انتخابات کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم اور دیگر امور کاجائزہ لیاگیا۔روانگی سے قبل سابق صدر نے حال ہی میں پیپلزپارٹی میں شامل ہونے والے جماعت اہلسنت کے مرکزی رہنماءو سابق وفاقی وزیرمذہبی امور حامد سعید کاظمی کے ساتھ ان کے گھر جا کر ملاقات کی۔
سابق صدر آصف زرداری کادورہ ملتان ناکام، کوئی قابل ذکر سیاسی رہنماءپیپلزپارٹی میں شامل نہ ہوا
ایڈیٹر42 Views

