اسلام تبسم کا شمار ملتان کے ان لکھاریوں میں ہوتا ہے جو اپنے طویل تخلیقی سفر، محنت اور ریاضت کی بدولت پہچانے جاتے ہیں۔ وہ 1970کے عشرے سے قرطاس و قلم کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ بچوں کی کہانیوں سے ادبی سفر کاآغاز کیا اوراس کے بعد خود کوانشایئے کے لیے وقف کرلیا۔ انشایئے کے ساتھ ساتھ شاہ عبداللطیف بھٹائی اور سندھ کی ثقافت بھی ان کی دلچسپی کاایک موضوع ہے۔ شاہ لطیف بھٹائی کی شاعری کے حوالے سے ان کے متعدد مضامین اخبارات و جرائد میں شائع ہوتے رہے۔ لیکن پھرانہوں نے اپنی پوری توجہ انشایئے پر مرکوز کردی۔ 1980ء کا عشرہ ویسے بھی اردو انشایئے کے مباحث کے حوالے سے پہچاناجاتا تھا۔اردو کے دودبستانوں میں انشایئے کی بحث جاری تھی اور اس حوالے سے اپنے اپنے لوگوں کو ہی ترجیح دی جارہی تھی۔ ایک دبستان ڈاکٹروزیرآغاکاتھا جس میں ڈاکٹر انور سدید،سلیم آغا،غلام جیلانی اصغر،جمیل آذر اکبر حمیدی اورایسے بہت سے انشایئے نگاراور ناقدین شامل تھے۔یہ سب انشایئے کی اس تحریک کے ساتھ وابستہ تھے جس کی تعریف ڈاکٹر وزیرآغا نے وضع کی تھی۔ دوسری جانب ایک گروپ احمد ندیم قاسمی کے دبستان سے تعلق رکھتاتھا۔اس گروپ میں انشایئے کی جو تعریف بیان کی جاتی تھی وہ ڈاکٹروزیرآغا اور ان کے حامیوں کو قبول نہیں تھی۔ قاسمی صاحب والے گروپ کے انشائیہ نگاروں میں مشکورحسین یاد اور سلمان بٹ کے نام نمایاں تھے۔ ملتان سے ان کے ساتھ ڈاکٹر صلاح الدین حیدرشامل تھے جبکہ پروفیسرانورجمال،خالداقبال اور شمیم حیدرترمذی کاتعلق انشایئے کے دبستان سرگودھا سے تھا۔ڈاکٹر وزیرآغا یعنی دبستان سرگودھا اگر انشایئے میں زیرلب مسکراہٹ کا قائل تھا تو دوسرا گروپ کھل کر ہنسنے میں بھی مضائقہ نہیں سمجھتا تھا۔
قارئین محترم انشایئے کی بحث طویل ہوگئی اب ہم اسلام تبسم کی زیرنظر کتاب کی طرف آتے ہیں۔اس سے پہلے ان کے انشائیوں کی کتاب جسے انہوں نے اب کھٹے میٹھے مضامین قراردیا ہے ”کباڑ خانہ اورحسینوں کے خطوط“ کے نام سے منظرعام پرآچکی ہے۔
زیرنظرکتاب دراصل اسلام تبسم کی خودنوشت ہے۔ اور خودنوشت بھی اس زمانے کی جب انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ڈھاکہ کو ڈوبتے دیکھاتھا۔ اسلام تبسم سے قبل صدیق سالک نے ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“ کے نام سے سقوط ڈھاکہ کا احوال 70کے عشرے میں ہی قلم بند کردیاتھا۔ صدیق سالک ان افسروں میں شامل تھے جنہوں نے ہتھیار ڈالنے کامنظر اپنی آنکھوں سے دیکھا اورپھر انہیں جنگی قیدی بھی بنادیاگیا۔ انہوں نے جنگی قیدی کی حیثیت سے بھارت کی جیلوں میں جو عرصہ گزارا اس کی کہانی بھی ان کی کتاب میں شامل ہے۔ وہ چونکہ ایک سرکاری افسر تھے اور ان کااس فوج سے تعلق تھا جسے ہتھیار ڈالنے پڑگئے تھے اس لیے ان کی خودنوشت کو آج کی زبان میں ہم ریاست کا بیانیہ کہہ سکتے ہیں۔ اسلام تبسم نے بھی صدیق سالک کی طرح یہ سارے مناظر دیکھے۔یہ ان کے لڑکپن کی کہانی ہے جب وہ دیناج پور میں رہتے تھے۔ جب بنگالیوں اوربہاریوں کے درمیان خانہ جنگی شر وع ہوئی تو ان کاعلاقہ بھی اس کی لپیٹ میں آگیا۔ انہوں نے ہتھیار ڈالے جانے کے بعد وہاں لوگوں کا جشن بھی دیکھا اور بھارتی فوج کی نقل وحرکت بھی۔ صدیق سالک تو ہتھیار ڈال کر گرفتارہوئے۔اسلام تبسم کو ہتھیار ڈالنے کے بغیر وہ سب اذیتیں برداشت کرنا پڑیں جن کاسقوط ڈھاکہ کے بعد وہاں کے دیگرلوگوں نے بھی سامنا کیا۔ نا کردہ جرائم کی پاداش میں انہیں دیگر مہاجرین کے ہمراہ سیدپور اور ڈھاکہ میں ریڈکراس کیمپوں میں بھی رہنا پڑا۔پھرانہیں نیپال منتقل کردیاگیا۔کسی کیمپ میں وہ ایک ماہ اورکسی میں اس سے زیادہ عرصہ مقیم رہے۔نیپال سے انہوں نے بھارت کے راستے پاکستان آنا چاہا لیکن یہ کوشش ناکام ہوگئی۔ان کی واپسی اس زمانے میں ہوئی جب ذوالفقارعلی بھٹو برسراقتدارآچکے تھے۔ ڈھاکہ کے مہاجر کیمپوں سے محصورین بنگلہ دیش کو پی آئی اے کی پروازو ں کے ذریعے کراچی لایاگیا۔ڈیڑھ مہینہ انہوں نے کراچی کے کیمپ میں گزارا جس کے بعد انہیں بذریعہ طیارہ لاہور منتقل کردیاگیا۔لاہور میں اسلام اوران کے والدین کو جی پی او میں رکھاگیا۔اسلام تبسم کے والددیناج پور میں محکمہ ڈاک کے ساتھ وابستہ تھے۔ اگلے مرحلے میں دیناج پور سے ان کا تبادلہ لاہور کردیاگیا اوریوں روزگار کاسلسلہ بھی بحال ہوگیا۔کچھ عرصے کے بعد ان کاتبادلہ لاہور سے ملتان ہوگیا اوریوں اسلام تبسم اپنے والدین کے ہمراہ ملتان آگئے۔ان کے والدنے ریٹائرمنٹ تک ملتان میں ہی ملازمت کی جس کے بعد اسلام تبسم کو بھی محکمہ ڈاک میں ہی بھرتی کرادیاگیا۔
اسلام تبسم نے اپنی اس خودنوشت کانام ”میں نے بھی ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“ رکھا ہے۔سرکاری منصب پر فائز لوگ اپنی پیشہ ورانہ مجبوریوں کی وجہ سے جوکچھ نہیں لکھ سکے تھے وہ اسلام تبسم نے محفوظ کردیا ہے۔ سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے بہت کچھ لکھاگیا،بہت سی گرد اڑائی گئی،حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ گم کردی گئی،اس رپورٹ میں جن لوگوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا انہیں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیاگیا۔ میں اس کتاب کوحمودالرحمن کمیشن رپورٹ اور ریٹائرڈ جرنیلوں کی لکھی ہوئی کتابوں سے زیادہ اہم سمجھتاہوں کہ یہ ایک محب وطن لکھاری کی کتاب ہے۔ایک ایسے لکھاری کی کتاب جسے حب الوطنی کے عوض تنخواہ بھی نہیں ملتی۔یہ دراصل وہ متبادل بیانیہ ہے جس کی فی زمانہ اشد ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔ تاریخ کے اوراق پر وقت کی گرد صاف کرنے کے لیے ایسی کتابوں اور ایسے مورخین کی اہمیت میں وقت گز رنے کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتارہے گا۔ بلاشبہ یہ کتاب گردوپیش پبلی کیشنز کی مطبوعات میں گراں قدر اضافہ ہے۔

