ڈاکٹر پروفیسر فاروق عثمان صاحب کی ملکی اور بین الاقوامی ادب پر گہری نظر بھی تھی اور انہیں تنقید کے حوالے سے اس خطے کی پہچان کا درجہ بھی حاصل ہے۔ انہوں نے بی اے تک تعلیم ملتان میں حاصل کی اور ایم اے اردو پنجاب یونیورسٹی (لاہور) سے کیا۔ زمانہ طالب علمی میں وہ ڈاکٹر وحید قریشی اور ڈاکٹر سید عبداللہ کے لائق ترین شاگردوں میں سے تھے۔بعد ازاں انہوں نے ”اردو ناول میں مسلم ثقافت۔ بحوالہ خصوصی عزیز احمد‘ انتظار حسین‘ قرۃ العین حیدر‘ خدیجہ مستور“ کے موضوع پر تحقیق کرکے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
اس موضوع پر ان کا مقالہ اردو میں تحقیقی کاموں کے حوالے سے ایک سند کا درجہ رکھتا ہے۔تمام عمر وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔ ملتان میں جس بزرگ سے ان کی سب سے زیادہ عقیدت اور نیازمندی تھی‘ وہ تھے پروفیسرجابر علی سید مرحوم۔ جابر صاحب ان کے دوست بھی تھے‘ استاد بھی اورایک ہی ادارے میں ساتھ کام کرنے والے ساتھی بھی۔ اور یہ تعلق جابر صاحب کے آخری وقت تک قائم رہا۔ جاوید اختر بھٹی صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے کہ؛ ”سول لائنز کالج ملتان میں پروفیسر جابر علی سید کے اردگرد ہمیشہ ایک کہکشاں روشن رہتی تھی۔ ان میں پروفیسر حسین سحر‘ پروفیسر مبارک مجوکہ‘ پروفیسر شوکت مغل‘ پروفیسر عامر فہیم‘ پروفیسر تاثیر وجدان‘ پروفیسر انورجمال‘ ڈاکٹر محمد امین‘ ڈاکٹر طاہر تونسوی اور بہت سے دوسرے اکابرین موجود ہوتے تھے۔ ان سب میں ایک نمایاں ترین شخصیت پروفیسر ڈاکٹر فاروق عثمان کی تھی۔ پروفیسر فاروق عثمان صاحب کی فکشن‘ اقبالیات اور میر پر گہری نظر تھی اور یہ ان کی دلچسپی کے خاص موضوعات تھے اس لئے وہ ان سے متعلق ہر کتاب کا مطالعہ ضرور کرتے تھے“
مجلسی دنیا میں بھی ان کابہت بڑا کنٹریبیوشن ہے۔جب تک اردوکادمی قائم رہی‘ اس کے اجلاسوں میں ڈاکٹر صاحب کی باقاعدہ شرکت نوجوان ادبی حلقے کیلئے سیکھنے سکھانے کے مواقع فراہم کرتی رہی۔ بعد ازاں ملتان آرٹس فورم کی بعثت ہوئی تو وہ اس کے اثاثی ممبران میں شامل تھے۔وہ ملتان آرٹس فورم کے پانچ برس تک صدر بھی رہے اور ان کی صدارت کی دورانئے میں فورم نے دن دگنی رات چوگنی ترقی کی۔وہ فورم کے بچپن کا زمانہ تھا اور یہ فاروق صاحب کی حوصلہ افزائی‘ بہتر حکمت عملی اور شرکت میں باقاعدگی ہی تھی جس نے بزرگوں کے ساتھ ساتھ نئے لکھنے والوں کی دلچسپی کو بڑھاوا دیا اور لکھنے لکھانے کے ساتھ ساتھ آرٹ کے ہر میدان میں نئی نئی اختراعی سرگرمیاں منعقد ہونے لگیں۔ یوں تو ڈاکٹر فاروق عثمان صاحب تمام عمرپڑھنے اور لکھنے سے وابستہ رہے اور تنقید کے حوالے سے ان کا بہت بلندمقام تھا مگر بدقسمتی سے ان کا کیا ہواکام مکمل طور شائع نہیں ہو سکا۔
1998 میں ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ”نکاتِ نظر“ شائع ہوا۔اس میں کل پندرہ مضامین شامل ہیں۔ ادب میں جدیدیت کا مفہوم‘ سائنسی شعور ادب اور ثقافت‘ ہم کلامی سے شعور کی رو تک‘ ہائیکو اور اس کے امکانات وہ چار بنیادی مضامین ہیں جن پر بین الاقوامی ادب اور بڑے مشاہیر کے نظریوں کی روشنی میں انہوں نے موضوعات‘ ان کی اپنے اپنے انفرادی عہد کے پس منظر اور اسی ترتیب میں جنم لیتی ہوئی تخلیقات میں ان کے اطلاق کے حوالے سے ایک تفصیلی اور سیر حاصل تجزیہ کیا ہے۔یہ تمام تجزیاتی مواد ادب تخلیقی تکنیک کی تاریخ کے چند اہم پہلوؤں کی سمتیں متعین کرتا نظر آتا ہے۔سات مضامین میں انہوں نے معروف لکھاریوں کی نمائندہ تخلیقات کی بہتر تفہیم اور ان کے ادبی مقام کے حوالے سے مدلل بحث کی ہے۔جن میں عزیز احمد کی کتاب ”ترقی پسند ادب“ تاریخی افسانے ”خدنگ جستہ“ ”جب آنکھیں آہن پوش ہوئیں“ اور ناول”گریز“ غلام عباس کا افسانہ ”حمام میں“ راجندر سنگھ بیدی کا افسانہ ”لاجونتی“ کرشن چندر کا افسانہ ”پانی کا درخت“ ایملی برانٹے کا ناول ”ودُرنگ ہائٹس“ شامل ہیں۔آخری تین مضامین میں انہوں نے انتظار حسین کے فنی سفر کے حوالے سے ”شہر افسوس کی گلیوں میں اپنی جڑوں کا متلاشی“ ”فہمیدہ ریاض کی منفرد شاعری‘‘ اور اپنے عزیز ترین ساتھی اور دل کے بہت قریب اپنے دوست کم استاد جناب جابر علی سید صاحب کی شخصیت‘ ان کے ادبی نظرئیے‘ اور بحیثیت ایک بڑے نقاد اور محقق کے‘انکے مقام پر بڑا تفصیلی لکھا۔جابر صاحب پر ان کا مضمون ”حساب دوستاں“ کے نام سے اس کتاب شامل کیا۔ان کاپی ایچ ڈی کا مقالہ ”اردو ناول میں مسلم ثقافت۔ بحوالہ خصوصی۔ عزیز حمد‘ انتظار حسین‘ قرۃ العین حیدر‘ خدیجہ مستور“ کتابی شکل میں 2002ء میں شائع ہوا۔اردو ناول کے حوالے سے یہ مقالہ ایک اہم دستاویز ہے جسے اردو ناول کی تاریخ اور چار اہم ناول نگاروں کے کام کے حوالے سے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس مقالے کی اشاعت پر اس کے ناشر کو دو لاکھ روپے کا انعام بھی ملا۔اس کتاب کے حصہ اول میں انہوں نے اردو ناول کے فکری و نظری‘ سیاسی و سماجی اور ادبی و فنی حوالوں سے ثقافت کی عہد بہ عہد تفہیم و تشکیل کے موضوع پر ایک علم افروز تعارفی بحث کی ہے۔ حصہ دوم میں اردو ناول میں ثقافتی رجحانات اور روئیے جبکہ حصہ سوم میں مقالے کے دیباچے میں انہوں نے عزیز حمد‘ انتظار حسین‘ قرۃ العین حیدر اور خدیجہ مستورکے ناولوں میں ثقافتی رجحانات اور روئیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔اب اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن اشاعت کے مرحلے میں ہے اور بہت جلدمنظر عام پر آنے والا ہے۔عمر کے آخری دور میں ڈاکٹر صاحب نے عبدالحلیم شرر کے مضامین کو چار جلدوں میں مرتب کرکے شائع کیا۔
”ڈاکٹر فاروق عثمان بحیثیت محقق و نقاد“ کے موضوع پر شعبہ اردو اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں محمد یٰسین صاحب نے ڈاکٹر لیاقت علی کی نگرانی میں کامیاب مقالہ لکھ کر ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ 5‘ فروری 2018ء وہ تاریخ ہے جب شہرت سے بے نیاز اور ناموری کے شوق سے ماورا تنقید کے حوالے سے ہماری پہچان اور اس خطے کا اثاثہ‘ ڈاکٹر فاروق عثمان ہم سے جدا ہوگئے۔۔۔
پروفیسر فاروق عثمان ۔۔ پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ ۔۔ ڈاکٹر علی اطہر کا مضمون
ایڈیٹر21 Views

