سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے ایک ماہ کے اندر اسمبلی اپنی مدت پوری کر کے تحلیل ہو جائے گی۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا الیکشن کی تیاری کا تقریباً آغاز ہو چکا ہے، مسلم لیگ ن میں ٹکٹوں کی تقسیم کا سلسلہ جلد شروع ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا ہم نے نہایت ہی مشکل حالات میں حکومت سنبھالی، ہمارےپاس چوائس تھی کہ فوری حکومت سنبھالتے ہی اسمبلیاں تحلیل کر دیتے، اسمبلی ختم کر دیتے تو آئی ایم ایف اور دیگر امداد کا سلسہ رک جاتا اور ملک ڈیفالٹ کر جاتا، ایک ماہ کے اندر اسمبلی مدت پوری کرکے تحلیل ہو جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہزاروں ارب روپے کی بجلی، گیس اور ٹیکس چوری ہوتا ہے، یہ سلسلہ جاری رہا تو ملک معاشی طور پر دربدر ہوتا رہےگا، ایسے ایسے شہر ہیں جہاں 82 فیصد بجلی چوری ہوتی ہے۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا چیئرمین پی ٹی آئی کے غلط سیاسی فیصلوں کی وجہ سے ان کی حکومت گئی، اس شخص نے اتنی غلطیاں کیں جس کے ڈپریشن میں اس نے 9 مئی کا پلان بنایا، 9 مئی ملکی تاریخ کا سیاہ دن تھا، اس نے ریاست کو للکارا، دیکھیں تو سہی اس کے ٹارگٹ کیا تھے، اس نے دشمنوں کی طرح کردار ادا کیا، اس شخص نے دفاع کے ضامن ادارے کو للکارا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا سیاسی غلطیوں کی اس نے قیمت ادا کی اور حکومت چلی گئی، سیاست دانوں نے بےشمار غلطیاں کیں، اسٹیبلشمنٹ نے بھی غلطیاں کیں لیکن کسی پارٹی کا کوئی ورکر مفرور ہوتے نہیں دیکھا جس طرح ان کے لیڈران مفرور ہوئے، سیاسی ورکر عزت آبرو سے گرفتار ہوتا ہے تو اس کی چادر چار دیواری کا تقدس بھی رہتا ہے۔
(بشکریہ: جیو نیوز)
منگل, ستمبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم

