عمران خان نے آئی ایم ایف وفد سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ کارکنوں اور لیڈر شپ کی گرفتاریوں کے باوجود ملک کی خاطر آئی ایم ایف اور حکومت کے معاہدے کی حمایت کر رہے ہیں کیوں کہ ’تین ارب ڈالر نہ ملنے کی صورت میں ملک کو ڈیفالٹ کا سامنا ہے۔‘
عمران خان نے خطاب میں کہا کہ ’اگر تین ارب ڈالر کا قرضہ نہیں ملتا تو ملک کو ڈیفالٹ کا خدشہ ہے۔ اگر پاکستان ڈیفالٹ کر جاتا ہے تو مہنگائی اور زیادہ ہو جائے گی۔‘
’ہم نے آئی ایم ایف کو کہا کہ ہم اس وقت تک اس معاہدے کی حمایت کرتے ہیں جب تک الیکشن کے بعد نئی حکومت نہیں آ جاتی جو پھر سے آئی ایم ایف سے بات چیت کرے گی۔‘
انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے وقت ہماری مدد نہیں کی لیکن آج ’ہم حکومت کی مدد کر رہے ہیں کیوں کہ آئی ایم ایف کو تمام جماعتوں کا اتفاق رائے چاہیے۔‘
’ہم صرف ملک کی وجہ سے مدد کر رہے ہیں حالانکہ ہمارے دس ہزار کارکن جیل میں ہیں۔ ہماری لیڈر شپ پر کیس ہیں۔‘
’اس کے باوجود کیوں کہ ہمارے ملک کو نقصان نہ ہو، ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم آئی ایم ایف سے سٹینڈ بائی ایگریمنٹ کی حمایت کرتے ہیں تب تک جب تک الیکشن نہیں ہوتے۔‘
عمران خان نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کو بتایا کہ جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آ جاتا، معاشی استحکام نہیں آ سکتا۔‘
(بشکریہ: بی بی سی اردو)
منگل, ستمبر 22, 2026
تازہ خبریں:
- کریک ڈاؤن اور احتجاج روکنے کے بعد کیا ہو گا ؟ : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- نازیہ حسن کے سابق شوہر اشتیاق بیگ کی کرن خان کے ساتھ تیسری شادی
- دنیا بھر کی فضائی حدود ایرانی جہازوں کے لیے بند :امریکا نے ایرانی وفد کو ویزا دینے سے بھی انکار کر دیا
- پیٹرول کی قیمت میں مزید 4 روپے 61 پیسے کا اضافہ : 393 روپے 75 پیسے لیٹر ہو گیا
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم

