جنرل موسی خان سپاہی سے کمیشنڈ آفیسر منتخب ہوئے تھے۔اگست1947میں وہ برٹش انڈین آرمی میں میجر تھے۔
قیام پاکستان کے بعد انھیں کمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں بطورانسٹرکٹربھیجا گیا۔ وہ کوئٹہ جانے کے لئے محو سفر تھے کہ سکھر ریلوے سٹیشن پر سٹیشن ماسٹر نے آواز لگوائی کہ میجر موسی کون ہے؟ میجر موسی نے تعارف کرایا تو اس نے مطلع کیا کہ آپ واپس لاہور جائیں۔ یہ آپ کے لئے ٹیلی گرام ہے۔ میجر موسی وہاں سے واپس عازم لاہور ہوئے۔ لاہورپہنچ کر وہ انگریزجی۔ او۔ سی کے اے ڈی سی مقرر ہوئے۔ بریگیڈئیرایوب خان پرالزام تھا کہ اس نے قیام پاکستان کے وقت ہونے والے فسادات میں غیر مسلم عورتوں کے زیورات اتروا لئے تھے۔ اس کے خلاف ان الزمات کے تحت انکوائری زیر التوا تھی۔ میجر موسی نے اس فائل کو نیچے والے دراز میں رکھ دیا اور یہ انکوائری ٹھپ ہوگئی۔ یہ تھا وہ احسان جو میجر موسی نے جنرل ایوب خان پر کیا تھا۔ جب جنرل ایوب خان مارشل نافذ کرکے صدر پاکستان بنے تو انھوں نے جنرل موسی کو پاکستانی فوج کا دوسرا پاکستانی کمانڈر انچیف مقرر کردیا۔
پیر, ستمبر 21, 2026
تازہ خبریں:
- دَرِ نجات: بارہ مصالحوں کی چاٹ ۔ یاسر پیرزادہ کا ناقابل اشاعت کالم
- الفاظ مقدس اور اعمال کھوکھلے ، سرزمینِ نور کے نورآباد کی کہانی : شہزاد عمران خان کا کالم
- اسلام آباد : سکیورٹی اجلاس خود سکیورٹی خدشات کی نذر ۔۔ انٹرنیشنل کانفرنس ملتوی کر دی گئی
- ہم جنس پرستی کی بنیاد پر پناہ لینے والوں میں پاکستانی سرِ فہرست : لندن سے ایک خط / فیضان عارف کا کالم
- پردے کے پیچھے طمانچے : آمنہ مفتی کا کالم
- مصنوعی ذہانت سے ایک مکالمہ : ڈاکٹر علی شاذف باقری کا کالم
- کوہاٹ دھماکہ : شہداء کی تعداد 21 ہو گئی : 100 سے زیادہ زخمی
- اسامہ بن لادن کی تعریف پر طاہر اشرفی سے برطانوی اعزاز ایک ہفتے بعد واپس لے لیا گیا
- کوہاٹ: پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا، 16 افراد شہید، درجنوں زخمی
- مکہ پر حملہ ۔۔ پاکستان کو سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پڑے گا : سید مجاہد علی کا تجزیہ

