پاک بحریہ نے ایک مرتبہ پھر بھارتی آبدوز کی پاکستان میں داخلے کی کوشش ناکام بنا دی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ‘آئی ایس پی آر’ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاک بحریہ نے مسلسل نگرانی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے باعث 16 اکتوبر کو ایک مرتبہ پھر بھارتی آبدوز کا سراغ لگایا اور اسے پاکستان کی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روکا۔
سیکیورٹی خدشات کے باعث پاک بحریہ مسلسل پاکستانی سمندری حدود کی نگرانی کر رہی ہے تاکہ ملک کی حدود کا دفاع کیا جاسکے۔
یہ اپنی نوعیت کا تیسرا واقعہ ہے جس میں بھارتی نیوی کی آبدوز کا بروقت سراغ لگایا گیا اور اسے پی این لانگ رینج پیٹرول ایئر کرافٹ سے بروقت ہدف بنا کر اسے روک دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ آبدوز کا سراغ پتا لگانا بھارتی نیوی کے انتہائی کمزور، مخدوش میکانزم کا عکاس ہے اور پاک بحریہ کے مادر وطن کے تحفظ کے عزم مصمم کو ظاہر کرتا ہے۔
واضح رہے کہ 5 نومبر 2019 کو پاک بحریہ نے پاکستان کی سمندری حدود میں بھارتی آبدوز کے داخلے کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا۔
ترجمان پاک بحریہ کا بیان میں کہنا تھا کہ بھارت کو فضائی محاذ کے بعد سمندری محاذ پر بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے بتایا تھا کہ پاک بحریہ نے گزشتہ روز اپنے سمندری زون میں موجود بھارتی آبدوز کا سراغ لگایا اور پاکستان کی سمندری حدود میں اس کے داخلے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ پاک بحریہ نے اعلیٰ پیشہ ورانہ مہارتوں کے ساتھ ہر دم چوکنا رہتے ہوئے کامیابی سے بھارتی آبدوز کا سراغ لگا کر اُسے پاکستان کے پانیوں میں داخل ہونے سے روک دیا۔
انہوں نے مزید بتایا تھا کہ پاک بحریہ نے بھارتی آبدوز کی اپنی موجودگی کو خفیہ رکھنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا۔
اس سے قبل 18 نومبر 2016 کو پاک بحریہ نے پاکستانی سمندری علاقے میں بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگا کر اسے اپنی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔
ترجمان پاک بحریہ کا کہنا تھا کہ ‘پاک بحریہ کے فلیٹ یونٹس نے پاکستان کے سمندری علاقے کے جنوب میں بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگایا اور اس کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا’۔
بعد ازاں اسی سال دسمبر میں بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل سنیل لامبا نے پاکستان کے اس دعوے کو ماننے سے انکار کردیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پاک بحریہ نے گزشتہ ماہ کراچی کے قریب سمندری حدود میں بھارتی آبدوزوں کا سراغ لگایا تھا۔
خیال رہے کہ پاکستان کی سمندری حدود 12 ناٹیکل میل تک ہیں جبکہ اس کا خصوصی معاشی زون (ای ای زیڈ) 2015 میں بڑھ کر 2 لاکھ 90 ہزار مربع کلومیٹر ہوگیا تھا۔
(بشکریہ: ڈان نیوز)
جمعہ, نومبر 6, 2026
تازہ خبریں:
- زبان خلق : ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ اللسان العربی
- یہ قتلِ عام کون روکے گا ؟ ۔۔ حامد میر کا کالم
- شاعر نما اور ادبی ری سائیکلنگ کا قصہ : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- ٹرمپ کی صدارت، کانگریس کی مزاحمت اور عالمی سیاست کے نئے سوالات : شہزاد عمران خان کا تجزیہ
- الگورتھم کے قیدی ، بے چہرہ ہجوم اور چیئرمین ماؤ : وجاہت مسعود کا کالم
- وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی
- امریکی الیکشن نتائج نے ٹرمپ کو ’ لنگڑی بطخ ‘ بنا دیا : نصرت جاوید کا کالم
- امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کو تاریخی شکست ، ڈیموکریٹس کا کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول
- سہیل آفریدی پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے الزامات۔۔ پورا سچ سامنے لایا جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھگدڑ میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت منظور

