Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, اکتوبر 22, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی
  • پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
  • لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
  • محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم
  • جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • خضدار سے نامعلوم مسلح افراد نے مزدوروں سمیت 18 افراد کو اغوا کرلیا
  • لسانیات علم ہے عقیدہ نہیں : سر جارج ابراہم گریئرسن کی خدمات ۔۔ ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم
  • وجاہت مسعود کا کالم : آزادی صحافت ۔۔جب بھٹو لاہور کے اخبارات پر حملہ آور ہوئے
  • بلوچستان میں 20 پولیس اہلکار اغوا، قلعہ عبداللہ میں پولیس چوکی مسمار
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home » محرومیوں کے شکار چولستان کے ثقافتی رنگ۔۔ظہوردھریجہ
ظہور احمد دھریجہ

محرومیوں کے شکار چولستان کے ثقافتی رنگ۔۔ظہوردھریجہ

ایڈیٹرمئی 9, 20202 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
articles and columns of seraiki leader zahoor dhareeja
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

چولستان کے عالمی شہرت یافتہ فنکار کرشن لعل بھیل گزشتہ روز رحیم یارخان میں فوت ہو گئے ، بلا شبہ ان کی وفات پورے وسیب کیلئے صدمے کا باعث ہے ۔ کرشن لعل بھیل نے اپنی آواز اور اپنے ثقافتی انداز سے پوری دنیا کو متاثر کیا اور ان کا فن چولستان کی پہچان بنا ۔ کرشن لعل بھیل نے چاروں صوبوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے ساتھ ساتھ انڈیا ، دبئی سمیت بہت سے دیگر ملکوں میں پرفارم کر کے پاکستان کا نام روشن کیا ، ان کی زبان سرائیکی اور مارواڑی تھی، وہ اپنی زبان میں بھجن بھی گاتے تھے ، ہندو مذہب کے بھیل طبقے سے ان کا تعلق تھا، کرشن لعل بھیل نے محترمہ بینظیر بھٹو ، صدر مشرف، صدر زرداری ، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی ، وزرائے اعلیٰ اور ملک کی دیگر اعلیٰ شخصیات کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کر کے داد و تحسین وصول کی ۔ اپنی دھرتی ، اپنی مٹی اور اپنے وسیب سے ان کو اس قدر پیار تھا کہ وہ سرائیکی ثقافتی پروگراموں کے ساتھ ساتھ سرائیکی صوبے کی تحریک کے پروگراموں میں بھی شریک ہوتے ۔ راقم الحروف بندہ ناچیز سے دوستی اسی بناء پر تھی ۔ کرشن لعل بھیل نے بہت سے انٹرنیشنل کلچرل فیسٹیول کے ساتھ ساتھ اندرون ملک لوک ورثہ ، پی این سی اے ، الحمرا ،ملتان / ڈی جی خان / بہاولپور آرٹس کونسلز، میں بارہا اپنے فن کا مظاہرہ کر کے داد و تحسین وصول کی ،اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اوپن ایئر تھیٹر لاہور میں آل پاکستان میوزیک کانفرنس میں چولستان کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ رفیع پیر تھیٹر ورکشاپ لاہور میں بھی اپنے وسیب کی نمائندگی کا فریضہ سر انجام دیا ۔
مجھے یاد ہے کہ ریڈیو پاکستان ملتان کی بالائی منزل پر بننے والے ملتان پی ٹی وی سنٹر کے افتتاح کے لئے صدر مشرف آئے ہوئے تھے ، بہت سے فنکار تھے مگر اپنے خوبصورت چولستانی لباس اور اپنے مخصوص انداز سے حاضرین کو سب سے زیادہ متاثر کرشن لعل بھیل نے کیا اور صدر مشرف نے ان کو بہت داد دی ۔ کرشن لعل بھیل گائیک ہونے کے ساتھ ساتھ موسیقار بھی تھے اور بہت سے شاگرد ان کے پاس گائیکی کے علاوہ موسیقی کا فن سیکھنے آتے ۔ ان کو بہت سے ایوارڈ اور اعزازات حاصل ہوئے ، ریڈیو پاکستان بہاولپور میں ان کی ڈبل اے کلاس تھی ۔ کرشن لعل بھیل کیلئے وزیراعلیٰ سے امداد کی درخواست اس بناء پر کر رہا ہوں کہ میں نے گزشتہ روز کے کالم میں لکھا تھا کہ فنکاروں کی امداد احسن اقدام ہے اور ان کو عید یا ان کی وفات سے پہلے ملنا چاہئے ۔ اگر مرنے کے بعد ان کو ملا تو اس کا کیا فائدہ ؟ کرشن لعل بھیل کا تعلق رحیم یارخان کے چولستانی علاقے سے تھا ۔ وہ کچھ عرصے سے گردوں کے مرض میں مبتلا تھے اور ہرہفتے وہ گردے واش کراتے ، ان سے آخری ملاقات بہاولپور آرٹس کونسل اور بہاول کلب بہاولپور میں ہوئی ، جہاں کمشنر بہاولپور آصف اقبال چوہدری نے چولستان جیپ ریلی کے موقع پر چولستان میوزیکل نائٹ منعقد کرائی تھی ۔ اس موقع پر کرشن لعل بھیل نے ملاقات کے دوران کہا کہ میں نے اپنے فن کے ذریعے ملک کی خدمت کی ہے ، دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے ، میں بیمار ہوں گردوں کا مسئلہ ہے ، اگر بیرون ملک نہیں تو کم از کم حکومت پاکستان میں کسی اچھے ہسپتال میں میرا علاج کرائے ۔ ہم نے جھوک سرائیکی کے توسط سے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ تک ان کی فریاد پہنچائی مگر علاج نہ ہو سکا ۔ یہ صرف کرشن لعل بھیل کے ساتھ ایسا نہیں ہوا بلکہ وسیب کے تمام فنکاروں کے ساتھ ایسا ہوتا آ رہا ہے ، چولستان کے ایک اور بہت بڑے فنکار فقیرا بھگت کو بھی یرقان ہوا ، ہماری ہزار اپیلوں کے باوجود ان کا علاج بھی سرکاری خرچ پر نہ ہوا اور وہ بھی سسک سسک کر آنجہانی ہو گئے ۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ چولستان کے دونوں فنکاروں کی موت مئی کے مہینے میں ہوئی ہے ، فقیرا بھگت 11 مئی 1999ء کو فوت ہوئے اور کرشن لعل بھیل کی تاریخ وفات 7 مئی 2020ء ہے ۔
کرشن لعل بھیل 1965ء کو لعل ناتھ کے گھر پیدا ہوئے ، ان کا نام کرشن جی تھا ، جبکہ ان کی پہچان کرشن لعل بھیل کے نام سے ہوئی ۔ ان کا پورا ثقافتی گروپ تھا ، جس میں مائی دادلی اور دیگر فنکار بھی شامل تھے ، وہ جہاں جاتے اپنے فن کے ذریعے مجمعے پر چھا جاتے ۔ چولستانی گائیکی ان کی پہچان تھی ، وہ سرائیکی مارواڑی کے ساتھ ساتھ سندھی اور پنجابی میں بھی عارفانہ کلام گاتے تھے ۔ چولستان سے ان کو عشق تھا ، ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ جس طرح خواجہ فرید نے چولستان سے محبت کی ہے ہم بھی اسی طرح محبت کرتے ہیں کہ خواجہ فرید ہمارے روحانی پیشوا ہیں ۔ آج ان کی وفات کے بعد یاد آ رہا ہے کہ جس طرح چولستان اور چولستان کے لوگ محرومیوں کا شکار ہیں ، اسی طرح چولستان کے فنکار بھی محروم ہیں ۔ لاہور کے میاں برادران قریباً 40 سال بر سر اقتدار رہے ، ہم نے بہت کچھ لکھا ، انہوں نے وسیب کو محروم رکھنے کے سوا کچھ نہ کیا، مگر آج تونسہ اور میانوالی بر سر اقتدار ہے ، اگر آج بھی مسئلے حل نہیں ہوتے تو اس سے بڑھ کر بد قسمتی اور کوئی نہیں ہو سکتی ۔ کرشن لعل بھیل چک 112چولستان کے رہائشی تھے ، بھیل نگر ضلع رحیم یار خان میں بھی ان کا گھر تھا ، لیکن وہ گھر پر بہت کم ملتے اور پروگراموں کے سلسلے میں اکثر باہر رہتے ، بہاولپور میں ملاقات کے دوران کرشن لعل نے بتایا کہ میں بہت خوش ہوں کہ کمشنر بہاولپور نے مجھے انعام سے نوازا ہے اور ہمارے پورے گروپ کو ثقافتی کپڑے بنوا کر دیئے ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ثقافتی لباس بہت پرانا ہو چکا تھا ، اور اتنے پیسے نہیں تھے کہ ہم نیا لباس بنواتے ، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اتنے بڑے فنکار ہیں ، آپ کو معقول معاوضہ ملتا ہو گا تو اس پر کرشن لعل نے کہا کہ بہت دولت دیکھی ہے ،میرے پاس بہت پیسہ آتا ہے مگر میں ضرورت مندوں میں خرچ کر دیتا ہوں ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے بہت دنیا دیکھی ہے ، اندرون ملک کے ساتھ ساتھ بیرون ملک بھی بہت پروگرام کئے ہیں، اب مجھے شہرت کی بھی ضرورت نہیں لیکن میری خواہش ہے کہ جس طرح آپ نے عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی ، میڈیم ثریا ملتانیکر اور دیگر فنکاروں کے اعزاز میں الحمراء میں تقریبات منعقد کی ہیں ، اسی طرح ایک تقریب اس فقیر کے ساتھ بھی ہو جائے ، میں نے ان سے وعدہ کیا مگر افسوس کہ کورونا کا عذاب نازل ہوا اور ہم اپنا وعدہ نہ نبھا سکے ، اسی بناء پر کرشن لعل بھیل کی روح سے شرمندہ ہیں ۔
(بشکریہ:روزنامہ 92نیوز)

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleباپ اور بیٹا۔۔آئینہ/مسعوداشعر
Next Article لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعدعلامات کے بغیر کورونا کیسوں کی تعداد میں اضافہ
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی

اکتوبر 22, 2026

پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ

اکتوبر 22, 2026

ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔

اکتوبر 21, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • سعودی عرب کے دمام ایئرپورٹ اور آرامکو آئل فیلڈ پر حملے 3 افراد ہلاک 10 زخمی اکتوبر 22, 2026
  • پولیس حراست میں ملزم کی ہلاکت قومی انحطاط کی علامت : سید مجاہد علی کا تجزیہ اکتوبر 22, 2026
  • ملتان : یتیم بچےکو کارسےکچلنے والا ملزم تو قیر مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ اکتوبر 21, 2026
  • لنگوئسٹک سروے آف انڈیا کا ایک طائرانہ جائزہ اور لہندا پنجابی تنازعہ : زبان خلق / ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم اکتوبر 21, 2026
  • محترم عرفان صدیقی کی یاد میں : وجاہت مسعود کا کالم اکتوبر 20, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.