فیض احمد فیض کا احترام اورمقام ان کے آدرشوں کی بدولت ہےاگر محض شاعری ہی ان کی وجہ شہرت ہوتی تو ان سے بڑے نہیں تو کم از کم ان کے پائے کے شاعر ان کے اپنے عہد میں بھی موجودتھے۔ فیض اپنی شاعری کی ذریعے جس پیغام کو پھیلا رہے تھے اصل اہمیت اس کی تھی۔ فیض کو لینن امن انعام ان آدرشوں کی بدولت ملا تھا جن کا پرچاروہ اپنی شاعری میں کرتے تھے۔ فیض کا انتقال جنرل ضیا کے دوراستبداد میں ہوا تھا۔ ان دنوں جو دانشوراور کالم نگار فیض کو مطعون کیا کرتے تھے آج وہ فیض کی تعریف و توصیف میں پیش پیش نظر آتے ہیں۔ جنرل ضیا اور اس کی مارشل لا کے یہ نظریاتی ترجمان فیض کو روسی ایجنٹ اور ان کے آدرشوں کو خلاف اسلام قرار دیا کرتے تھے۔ فیض کے انتقال کے بعد کچھ سال تک فیض میلہ لیفٹ کی سیاسی اور سماجی تنظیمیں منعقد کرتی رہیں لیکن سوویت یونین کے انہدام کے بعد جہاں لیفٹ عمومی اضمحلال کاشکار ہوا وہاں اس کی ثقافتی سرگرمیاں بھی زوال پذیر ہوگئیں۔ گذشتہ کچھ سالوں سے فیض میلے کو ان کی فیملی نے فیسٹیول میں بدل دیا ہے اب فیض عام پاکستانی کی بجائے کارپوریٹ ورلڈ کے شاعر اور دانشور بنادیئے گئے ہیں۔ اب فیض فیسٹول کے مقررین ہوں یا منتظیین سبھی کارپوریٹ سیکٹر سے متعلق ہوتے ہیں۔فیض فیسٹول کے نام پران دانشوروں کا اجتماع منعقد کیا جاتا ہے جوفیض کے آدرشوں کے مخالف رہے تھے۔ اب فیض سماجی انصاف اور تبدیلی کا شاعر نہیں ہے اب وہ مڈل کلاس کا رومانٹک شاعر ہے جو گل وبلبل کی باتیں کرتا اور گلش کے کاروبار چلنے کی خواہش رکھتا ہے
گذشتہ تین روز سے جاری لاہور میں جاری فیض فیسٹیول دراصل مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے لڑکے لڑکیوں کا اجتماع تھا جہاں فیض سے منسوب آدرشوں کی خوب بھد اڑائی گئی۔ کھانے پینے کے سٹالز ہوں یا دیگر پروگرامزسب کوعام آدمی کے پہنچ سے دور رکھا گیا تھا۔ امجد اسلام امجد ہوں یا اس قبیل کے دیگر دانشور و شاعر اور ادیب اس فیسٹول کے پردھان تھے۔ فیض جبر کے خلاف نہیں بلکہ پیار ومحبت کے نام پرریاستی اور حکومتی جبر کا جواز پیش کیا کرتے تھے یہ فیسٹول کا مرکزی بیانیہ تھا۔ فیض فیسٹول ایک قسم کا مینا بازار تھا جہاں کھانے پینے کی اشیا کے مہنگے سٹالز سلیبرٹیز دانشوراورمارشلاوں کے پالے ہوئے سیاست دانوں کی بھرمار تھی۔
جمعہ, نومبر 6, 2026
تازہ خبریں:
- یہ قتلِ عام کون روکے گا ؟ ۔۔ حامد میر کا کالم
- شاعر نما اور ادبی ری سائیکلنگ کا قصہ : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- ٹرمپ کی صدارت، کانگریس کی مزاحمت اور عالمی سیاست کے نئے سوالات : شہزاد عمران خان کا تجزیہ
- الگورتھم کے قیدی ، بے چہرہ ہجوم اور چیئرمین ماؤ : وجاہت مسعود کا کالم
- وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی
- امریکی الیکشن نتائج نے ٹرمپ کو ’ لنگڑی بطخ ‘ بنا دیا : نصرت جاوید کا کالم
- امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کو تاریخی شکست ، ڈیموکریٹس کا کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول
- سہیل آفریدی پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے الزامات۔۔ پورا سچ سامنے لایا جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھگدڑ میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت منظور
- پی آئی اے کے نئے سی ای او ایڈرین ہیملٹن مانز نے عہدہ سنبھال لیا۔

