” کراچی میں پندرہ سال کے دوران باون ڈاکٹر قتل کیے گئے۔
مجھ پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا لیکن بچ گیا۔
مجبوراً ترک وطن کرنا پڑا۔”
ڈاکٹر صاحب نے بتایا۔
وہ ہیوسٹن میں کلینک کرتے ہیں۔
” آپ امریکہ ہی کیوں آئے؟
کسی قریبی مسلمان ملک چلے جاتے۔“
میں نے خواہ مخواہ کی بات کی۔
انھوں نے ٹھنڈا سانس لے کر کہا،
” میرے والد نے نصیحت کی تھی،
بیٹے! جب پناہ درکار ہو تو
عیسائی ملک چلے جانا،
اپنے قبیلے والوں کے پاس مت جانا۔
مکہ والوں نے مکہ والوں کو پناہ نہیں دی تھی،
انھیں نجاشی کے پاس جانا پڑا تھا۔“
جمعہ, نومبر 6, 2026
تازہ خبریں:
- زبان خلق : ڈاکٹر عباس برمانی کا کالم ۔۔ اللسان العربی
- یہ قتلِ عام کون روکے گا ؟ ۔۔ حامد میر کا کالم
- شاعر نما اور ادبی ری سائیکلنگ کا قصہ : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
- ٹرمپ کی صدارت، کانگریس کی مزاحمت اور عالمی سیاست کے نئے سوالات : شہزاد عمران خان کا تجزیہ
- الگورتھم کے قیدی ، بے چہرہ ہجوم اور چیئرمین ماؤ : وجاہت مسعود کا کالم
- وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی منظوری دے دی
- امریکی الیکشن نتائج نے ٹرمپ کو ’ لنگڑی بطخ ‘ بنا دیا : نصرت جاوید کا کالم
- امریکہ میں وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کو تاریخی شکست ، ڈیموکریٹس کا کانگریس کے دونوں ایوانوں پر کنٹرول
- سہیل آفریدی پر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے الزامات۔۔ پورا سچ سامنے لایا جائے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھگدڑ میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد ٹک ٹاکر مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت منظور

