عام طور پر گھڑی کا موجد پیٹر ہیلی کو کہا جاتا ہے، اس کا تعلق جرمنی سے تھا۔ اس نے 1485ء میں گھڑی بنائی اور اس میں جدت پیدا کی۔ شروع میں “سن ڈائل دھوپ گھڑی” کا استعمال عام تھا۔
سن ڈائل سے سائے اور چکنی سطح پر بنے اعداد کی مدد سے صرف دن میں وقت معلوم کیا جاسکتا تھا
سوئٹزر لینڈ میں قیمتی گھڑیا ں بنتی ہیں جو اکثر تحفہ میں دی جاتی ہیں زیادہ تر لوگ تحفہ خود استعمال کرتے ہیں جبکہ ایک آدھ بندہ تحفہ کو بیچ بھی دیتا ہے تاہم مہذب لوگ تحفہ کو بیچنا برا سمجھتے ہیں۔
لیکن معاشرےمیں کچھ لوگ ایسے بھی پاۓ جاتے ہیں جوتحفہ فروخت کرنے کے عمل کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں ۔اور اگر آپ انہیں سمجھائیں کہ بھائی یہ اچھی بات نہیں تو آگے سے گالیاں دیتے ہیں اس لئے باشعور لوگ ان سے دور رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں ۔
ہفتہ, ستمبر 12, 2026
تازہ خبریں:
- کلثوم نواز شریف کی آٹھویں برسی خاموشی سے گزر گئی : کوئی قابلِ ذکر تقریب نہ ہوئی
- پشاور: دو خواتین کے گینگ ریپ کے چار ملزمان ’جائے وقوعہ کی نشاندہی‘ کے دوران کیسے ہلاک ہوئے؟
- دھرنوں کے مقابل ریاست کی موٹی کھال : نصرت جاوید کا کالم
- حکومت نے پیٹرول 3 روپے اور ڈیزل مزید 5 روپے لیٹر مہنگا کر دیا
- پیٹرول اصل قیمت سے 133 روپے اور ڈیزل 122 روپے مہنگا
- موت منڈی کے خوشیا : وجاہت مسعود کا کالم
- مخصوص نشستوں پر چناؤ براہِ راست الیکشن سے ہونا چاہیے : شہزاد عمران خان کا کالم
- پاکستان میں نئے صوبوں کا تنازعہ ؛ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- منجی تھلے ڈانگ : سہیل وڑائچ کا کالم
- ڈیٹ ایکسپائری آدمی نے تخلص کیسے تبدیل کیا ؟شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت

