یہ موسم بھیگا موسم ہے
اور بارش ٹوٹ کے برسی ہے
اِ س موسم نے مرے اندر کے
ہر موسم کو چونکایا ہے
چُپ چاپ سا شور مچایا ہے
احساس کے پاگل پن کو لیے
اک ست رنگی جو قوس بنی
مری روح پہ ایسے چھائی ہے
اِ س موسم پگلے موسم میں
یہ پلکیں بھیگی بھیگی سی
اور آہوں کی دلگیر صدا
بس خاموشی کے لہجے میں
سب باتیں دل کی کہتی ہے
کُچھ اندر میرے جل تھل ہے
کچھ باہر رِم جھِم بوندیں ہیں
یخ بستہ سی اِن راتوں میں
سب یاد کے جگنو چار طرف
من مندر کی اس چوکھٹ پر
آسیب کی صورت پھیلے ہیں
مرے اندر کی اِ س بارش میں
جو برس برس کر روز اور شب
اِ س دل کی پیاسی دھرتی کی
کُچھ اور بھی پیاس بڑھاتی ہے
سب خواب بھی چکنا چور ہوئے
ارمان بھی دل سے دور ہوئے
اشکوں کی مالا ٹوٹ گئی
یہ جو اندر میرے بارش ہے
اور بھیگا موسم ہے
دونوں کا لہجہ ایک سا ہے
دونوں کا رشتہ ایک سا ہے
یہ جو اندر باہر پانی ہے
دونوں کی ایک کہانی ہے
پیر, اگست 10, 2026
تازہ خبریں:
- جشن آزادی پر سکیورٹی : کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں موبائل سروس بند
- مہاراجہ کی گھوڑیاں اور نئی سیاست :سہیل وڑائچ کا کالم
- وزیر داخلہ کا بیان اور ہمارا گلا سڑا نظام : مہتاب حیدر تھہیم کا تجزیہ
- میں واپس آؤں گا : یاسر پیرزادہ کا کالم
- آبنائے ہرمز کے سوال پر ایران کی عالمی تنہائی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- بھارت میں طالب علم رہنما نیہا بورا کے چہرے پر سیاہی پھینک دی گئی
- سیدان بادشاہ گر کی مدح میں ۔۔۔ علمدار حسین بخاری کا کالم ( پہلا حصہ )
- آزادی کے سفر سے معاشی انحصار تک :شہزاد عمران خان کا کالم
- سہ ملکی دفاعی معاہدہ کیا تبدیل کرسکتا ہے؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- ایک نامعلوم حکمران کی فرضی تقریر ۔۔۔ یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم

